MOJ E SUKHAN

غزل Ghazal کی تاریخ،غزل کی ہئیت اور معنویت

گویا خُز نیہ لَے اور المیہ غزل کی ہئیت ترکیبی میں شامل ہے۔ غزل کے تمام بڑے اور قابلِ ذکر شاعروں نے کسی نہ کسی رنگ میں المیہ احساسات کی ترجمانی ضروری کی ہے۔اگر چہ ایسی غزلوں کی تعداد زیادہ نہیں ہوگی ، جنہوں کلی طور پر المیہ کہا جاسکے(مولانا روم کا دیوان شمس تبریز اس سے مستثنیٰ ہے۔ جس کی زیادہ تر غزلیں حزنیہ اور المیہ ہیں) کلی طور پر ’ طربیہ غزل‘ بھی شاید ہی کسی بڑے غزل گو کافنی مطمح نظر رہا ہے۔ غزل کے شاعر کو روایتاً ہی سہی غم کا بیان ضرور کرنا پڑ تا ہے۔ اسی لیے رنج و الم کے جذبات و احساسات کو جو نسبت صنف غزل سے ہے کسی اور صنف شاعری سے نہیں۔ اردو غزل کا فکری و فنی جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ غزل میں المیہ مواد اور الم پسندی کی طویل روایت کے چار نمایاں اسباب ہیں۔

  1. ہیئتی توارث
  2. فارسی غزل کی فکری ، جذباتی اور جمالیات تشکیل کے تاریخی اسباب
  3. تصوف کی روایت کے حزنیہ عناصر
  4. اُردو غزل اور اُردو شاعری کا سیاسی اور سماجی پس منظر

عربی لفظ غزل کے معنی عورتوں سے حسن و عشق کی باتیں کرنا ہے۔ غالباً اردو، فارسی اور عربی کے سبھی لغات کے یہی معنی نکلتے ہیں۔ البتہ تغزل یا غزلیت یعنی’ ایک خاص انداز کا باوقار اور سنجیدہ گداز، جو عشق کی خاص پہچان ہے۔ لغوی اعتبار سے یہ صنف حسن و عشق کی واردات و کیفیات اور معاملات کا ذریعہ اظہار ہے۔
غزل اردو فارسی میں ایک صنف، جس کے اشعار کی تعداد مقرر ہوتی ہے اور جسے عموماً ساز کے ساتھ گایا جاتا ہے
 منجملہ فارسی غزل Ghazal اگر چہ اپنی موجودہ ہئیت کے اعتبار سے عربی قصیدے کی تشبیب ہی کی قلم ہے ۔ ہندوستان میں عربی گو شعراء میں سب سے پہلا نام مسعود سعد سلمان کانام آتا ہے۔ جو فارسی کے علاوہ عربی اور ہندی میں بھی شعر کہتے تھے۔ ان کے بعد امیر خسرو ہیں جو فارسی کے سب سے بڑے غزل گو شاعر ہیں ۔ انہوں نے عربی بھی شعر کہے ہیں ان کے علاوہ قابلِ ذکر عربی شعراء میں نصیرالدین چراغ دہلی، قاضی عبدالمقتدر ، احمد تھا نیری، شاہ احمد شریفی ، سید عبدالجلیل بلگرامی، شاہ ولی اللہ اور ان کے والد شاہ عبدالرحیم اور بیٹے عبدالعزیز و رفیع الدین نیز محمد باقر مدراسی کے نام شامل ہیں۔ کیوں کہ ایران میں غزل عام تھی ۔اس کی نشو ونما کے لئے تاریخی اور نفسیاتی اسباب و عوامل پہلے سے موجود تھے۔

فارسی غزل کا اولین شاعر شہید بلخی کو تسلیم کیا جاتا ہے جس کا زمانہ چوتھی صدی ہجری ہے البتہ غزل کو ترقی رود کی اور عنصری نے دی لیکن محبت، محبوب اور شراب کی مثلث کو کثیر الاضلاع بنانے میں سنائی اور دوسرے صوفی شعراء نے بھر پور کردار ادا کیا۔
یہی دیگر دانشوروں کا ہے  اردو غزل Ghazal کے تاریخی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صنف اُردو میں فارسی شعرو ادب کے اثر سے آئی اور فارسی میں عربی قصیدے کی تشبیب سے الگ ہو کر وجود پذیر ہوئی۔ علامہ شبلی نعمانی کے خیال کے مطابق یہ بار بار لکھا جا چکا ہے کہ ایران میں شاری کی ابتدا قصیدہ سے ہوئی اور ابتداء میں غزل جو طبع سے نہیں ، بلکہ اقسام شاعری کے پوراکرنے کی غرض سے وجود میں آئی ۔ قصیدہ کی ابتداء میں عشقیہ شعر کہنے کا دستور تھا، اس حصے کو الگ کر لیا تو غزل بن گئی ، گو یا قصیدہ کے درخت سے ایک قلم لے کر الگ لگالیا۔
متذکرہ مباحث کی روشنی میں ہم کہے سکتے ہیں کہ اردو غزل فارسی سے نمودار ہوئی ہے لیکن خورشد الاسلام نے اپنی تصنیف ’اردو ادب آزادی کے بعد‘ میں اس کے برعکس لکھا ہے:

’’ اردو غزل کی تاریخ کو میں اردو زبان کے باقاعدہ رواج پانے کی تاریخ سے قدیم تر سمجھتا ہوں۔ بظاہر یہ بات ناقابل فہم معلوم ہوتی ہے۔ کیوں کہ اردو زبان سے پہلے اردو غزل کا تصور کیسے کیا جا سکتا ہے لیکن یہاں غزل کے اس فکری و جذباتی سر مائے کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے جو زبان سے علیحدہ کر کے دیکھاجا سکتا ہے۔ رشید احمد صدیقی نے کسی جگہ غالب کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے اردو غزل کے نسب نامے کو ولی سے آگے بڑھا کر رودکی تک پہنچا دیا۔ غالب سے رود کی ایک ہزار سال کا فاصلہ ہے جو اچھے خاصے رشتوں کو دھندلا دینے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ لیکن سولہویں صدی عیسوی کے آغاز تک یہ رشتہ ہمیں زیادہ واضح نظر آتا ہے ۔ اس سے پہلے فارسی غزل زیادہ تر ایران کی چیز تھی اس میں سعدی و حافظ کی روشنی تو تھی لیکن صناعی ونازک خیالی کے وہ تکلفات نہ تھے جو اسے ہندوستانی بنا کر اردوغزل کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ سولہویں صدی میں کسی حدتک دبستان ہرات کے زیر اثر تازہ گوئی کی ایک انجمن قائم ہوئی جس کی قیادت فیضیؔ و عرفیؔ کرتے تھے۔ اسی کے تحت ان علایم و رموز اور مخصوص اسالیب بیان کو فروغ ہوا جنہوں نے اکبر سے شاہجہاں تک فارسی غزل میں ایہام ، معاملہ بندی، شوخی بیان اور مبالغہ آرائی کو بڑھاوا دیا جو آگے چل کر اردو غزل کی بنیادی خصوصیات قرار پائیں۔‘‘

این کارٹا ڈکشنری میں بھی غزل کو گیت کی غنائی ہیئت کے معنی ہیں۔جو عربی ، فارسی یا اردو کی سریلی نظم قرار دیا ہے۔
غزل کے اجزا ئے ترکیب یہ ہیں ۔ پہلا مطلع دوسرا ردیف تیسرا قافیہ چوتھا مقطع اور پانچویں بحر ہوتی ہے۔ اس ترکیب سے غزل Ghazal میں فنی  عناصر پیدا ہوتے ہیں۔ ہئیت کے نقطہ نظر سے بحر اور قافیہ غزل کے محور ہیں۔ ردیف ایک مزید بندش ہے جسے اردو شاعر اکثر اپنے اورپر عائد کرلیتا ہے۔ اس سے اچھے اور بُرے نتائج مرتب ہوتے ہین۔ غزلیں غیر مُردَّف بھی ہوتی ہیں۔ لیکن اردو کی بیشتر غزلیں مردَّف ہیں۔ ردیف کے الفاظ فعل بھی ہوسکتے ہیں جیسے’’ ہے‘‘،’’ہیں‘‘یا’’ کھینچ‘‘۔

اور حروف اور اسم بھی جیسے’’ پر ‘‘ نہیں‘‘، ’’شمع‘‘ اور ’’نمک‘‘

ایک تبصرہ چھوڑیں