MOJ E SUKHAN

قتل گہہ میں جب کسی سفاک کا خنجر اٹھا

غزل

قتل گہہ میں جب کسی سفاک کا خنجر اٹھا
واسطے تعظیم کے تن سے ہمارا سر اٹھا

جب کبھی پہلو سے مجھ محزوں کے وہ دلبر اٹھا
درد سینہ میں جگر میں دل میں رہ رہ کر اٹھا

گرم جوشی سے رقیبوں کی ہوا ایسا ملال
تیری محفل سے مثال شمع میں رو کر اٹھا

خاک بھی جمنے نہیں دیتی ہے عاشق کے قدم
وہ پری کہتی ہے سایہ سے مرے بستر اٹھا

چاہتا ہے تو اگر تاج سرافرازیٔ دہر
چار دن کے واسطے منعم نہ بار زر اٹھا

عبدالمجید خواجہ شیدا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم