MOJ E SUKHAN

مقدر آزمانا چاہتا ہوں

غزل

مقدر آزمانا چاہتا ہوں
تمہارا آستانا چاہتا ہوں

شب فرقت مسلسل آنسوؤں سے
لگی دل کی بجھانا چاہتا ہوں

خدا جانے وہ کس کا آستاں ہے
جہاں میں سر جھکانا چاہتا ہوں

مجھے بخشا ہے جس نے غم اسی کو
شریک غم بنانا چاہتا ہوں

تری مخمور آنکھوں کے تصدق
یہیں اب ڈوب جانا چاہتا ہوں

جہاں وہ نقش پا مل جائے مجھ کو
وہیں کعبہ بنانا چاہتا ہوں

نہ پوچھ اے دردؔ میری وسعت شوق
حدود غم بڑھانا چاہتا ہوں

عبدالمجید درد بھوپالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم