MOJ E SUKHAN

نہ پوچھو دوست ہےکیاحال دنیا کی عدالت کا

غزل

نہ پوچھو دوست ہےکیاحال دنیا کی عدالت کا
یہاں معیار دہرا ہے ، غربت اور امارت کا
ہوا اقبال کا شاہین ،عادی عیش و عشرت کا
کہاں سے لائے گا جذبہ،وہ اب شوق شہادت کا
نہیں راہوں سے شکوہ کچھ،ہمیں راہبر نےلوٹاہے
کہ اس نےکھیل کھیلا ہے،سیاست سے قیادت کا
امیر شہر کو نسبت ذرا بھی ہوتی قراں سے
شعور – آگہی ہوتا ، اسے پھر ختم- نبوت کا
سدا اسلام پھیلا ہے، حکمت اور تحمل سے
یہ مذہب درس دیتا ہے ، محبت کا اخوت کا
جو ہیں اسلام کے دشمن، وہ اب آقا ہمارے ہیں
دلوں پر مہر ، آنکھوں پر پڑا ہے پردہ غفلت کا
وہی ہے دیکھتی آنکھیں،کہ جو دل دیکھناچاہے
نہیں ہے صوفیہ اس میں قصور اپنی بصارت کا
صوفیہ حامد خان
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم