نہ پوچھو عشق میں کیا کیا نہاں ہے
ستم کی ایک خونی داستاں ہے
کبھی تھا ہجر الفت میں رکاوٹ
وصال اب تیرے میرے درمیاں ہےبیگم
لٹا کیسے، کہاں سب، کچھ نہ پوچھو
کہ اک رہزن ہی میرِ کارواں ہے
یہی غم بن گیا الفت میں طاقت
یہی غم زندگی کا امتحاں ہے
بجھے گی آنسوؤں سے آگ کیسے
کہ دل میں پل رہا آتش فشاں ہے
مرے مرنے کا عقدہ کیسے کھلتا
مرا قاتل ہی میرا راز داں ہے
لگے گی آگ گلشن کو نسیم اب
کہ اک دشمن درونِ آشیاں ہے
نسیم بیگم نسیم