MOJ E SUKHAN

کاش اس بت کو بھی ہم وقف تمنا دیکھیں

کاش اس بت کو بھی ہم وقف تمنا دیکھیں
برف کی سل سے نکلتا ہوا شعلہ دیکھیں

جن کو منزل طلبی میں ہو تلاش رہبر
رہنمائی کو مرے نقش کف پا دیکھیں

پاؤں کی روندی ہوئی خاک ہے اپنے سر پر
ہم نے چاہا تھا کہ عالم تہہ و بالا دیکھیں

نرم اور گرم نگاہی پہ نہیں اپنی نظر
تیرے ہوتے ترا انداز نظر کیا دیکھیں

اپنا غم بھی غم دنیا کے برابر ہے عروجؔ
اپنا غم بھول سکیں تو غم دنیا دیکھین

عروج زیدی بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم