MOJ E SUKHAN

کبھی تو یاد کے گلدان میں سجاؤں اسے

غزل

کبھی تو یاد کے گلدان میں سجاؤں اسے
کبھی وہ سامنے بھی ہو تو بھول جاؤں اسے

کھلے جو ہیں مری شاخ خیال پر کچھ گل
اسی کا کھیل ہے یہ کس طرح بتاؤں اسے

وہ خوشبوؤں کی طرح آئے اور اڑ جائے
میں کیسے پیرہن ذہن میں بساؤں اسے

پتا تو ہو کہ ہے کیا کرب زخم نظارہ
نہ دیکھنا جسے چاہے وہی دکھاؤں اسے

وہ حرف سوختہ سطح زباں تک آئے تو
میں اپنے لہجۂ روشن سے جگمگاؤں اسے

اسی کے رنگ کا پہنا اگر لباس تو کیا
اسی کی طرز میں اب شعر بھی سناؤں اسے

اگر ہے عشق تو پھر ایسا عشق ہو باقرؔ
وہ گنگنائے مجھے اور میں گنگناؤں اسے

باقر نقوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم