کتاب : گمشدہ آوازوں کا تعاقب
تبصرہ: ڈاکٹر افتخار الحق ( ماہر تعلیم ، شاعر ، نقاد )
فصیلِ متن پہ جھنڈے ہیں استعاروں کے
“ گمشدہ آوازوں کا تعاقب”: کچھ تاثرات ، کچھ محسوسات
مجھے یہ مصرع زویا حسن کے افسانوں پر مشتمل کتاب پڑھنے کے بعد بیساختہ سا سوجھ گیا ۔ سو، اسی کو اپنی تحریر کا عنوان بنانا اچھا لگا۔
زویا حسن ان خوش قسمت لکھاریوں میں شامل ہو گئی ہیں جن کی پہلی کتاب بغیر کسی خاص تگ و دو کے مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ پڑھنے کے بعد میرے لیے ایسی رائے قائم کرنے کا ٹھوس جواز بنتا ہے۔ پندرہ افسانوں پر مشتمل اس مجموعے کا نمایاں ترین وصف یہ ہے کہ اس میں خال خال ہی راست بیانیے کا انداز اپنایا گیا ہے اور یہئ جدید فکشن نگاری کا بنیادی اصول اور کسی حد تک کڑی شرط بھی ہے۔ اس طرح کے اسلوب کو سنجیدہ قاری یا نقاد کبھی بھی رسماً پڑھ کر عمومی سا تبصرہ خواہش کے باوجود نہیں کر سکتا کیونکہ “ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں” کا ماحول پیدا ہوجائے تو قاری کیلئے متن کی قرات ھل من مّزید کا سماں پیدا کرتی ہے اور دل و دماغ کو ایک ہی طول و عرضِ فکر کے منطقے میں رکھ کر مطالعہ ناگزیر ہوجاتا ہے۔
زویا کے افسانوں میں زبردست ناسٹلجیا، زمانی گرفت سے آزاد ہونے کی سرتوڑ عینی/ آئیڈیل سعیِ لاحاصل سے پیدا شدہ خلش، تجسیم نگاری، تجسس و تحیر ، کشمکش /conflict اور طنز سمیت سبھی وہ لوازمات شامل ہیں جو اصل میں تو راست انداز میں لکھی گئی کہانیوں کیلئے مختص ہیں ۔ پھر ان افسانوں کا امتیازی وصف یا شناختی نشان کیا ہے کہ یہ جدید اردو نثری ادب میں اپنی پہچان کرا سکیں ؟ شاید جواب بہت مختصر بھی ہے اور شاید اسی بظاہر مختصر جواب کے اندر ہی زویا کے افسانوی جہاں کی کئی جھلکیاں دکھائی دے جائیں : علامت آمیز استعاراتی نظام یا استعاروں تشکیل پاتی علاماتی کہکشاں جس میں کچھ ستارے بیحد روشن، کچھ قدرے مدھم اور کچھ پیہم ٹمٹمانے میں مصروف و مست ۔
جی ہاں احباب! میری تجزیاتی قرات کا نتیجہ یہی ہے اور اسے ثابت کرنے کیلیے کئی معتبر شہادتیں بھی میرا ساتھ دینے کو تیار ہیں ۔مثلاً پہلے افسانے ( جو کتاب کے عنوان سے معنون ہے) سے ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے:
“ تمھاری آواز اگلی نسلوں کے کانوں کی تلاش میں نکلی ہے میرے لال، صرف انھی کو سنائی دے گی کیونکہ وہ اس مرکز سے بچھڑ گئی تھی جہاں وہ سنی جاتی تھی اور توانا تھی ۔ مگر اب ایک عمر کے تمام ہونے تک اسے بھٹکنا ہوگا ۔”
یہ اقتباس ہی کہانی کا مرکزہ اور کہانی کی جان ہے ۔ اسے افسانے کے متن سے جدا کرتے ہی تمام دانے بکھر جانے کا قوی خدشہ ہے۔ گو کہ پہلے افسانے سمیت کچھ اور افسانوں میں مصنفہ کے سیاسی رحجانات کی جھلک ملتی ہے لیکن انھیں مصنفہ نے ہر ممکن حد تک تعصب کی آمیزش سے پاک رکھا ہے اور مفتیانہ انداز میں کوئی حکم لگانے کی کوشش نہیں کی ورنہ افسانوں کا اسلوب اور حسن مجروح ہونے کا شدید احتمال ہوتا ۔
“ سحر سے ذرا پہلے” کا موضوع اہم ہونے کے ساتھ ساتھ کافی نازک و حساس بھی ہے۔ جابرانہ نظام کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والوں کے ساتھ مقتدرہ کا سلوک اور اس سے جڑے شاخسانے ۔ اس موضوع کے پیچیدہ تر پہلوؤں کی طرف مصنفہ نے شاید قصداً دھیان نہیں دیا یا اس کی غیر پیچیدہ جہات ہی نے زویا کے خلّاق ذہن اور حساس دل کو اس تیزی اور سختی سے گرفت میں لیا کہ اس کے قلم سے گویا کسی خودکار میکانیکی انداز میں ایسے جملے نکلتے چلے گئے :
“ حسام! یہ سب باتیں جو تم کر رہے ہو نا ، ہر دوسرے دن کئی برسوں سے کوئی نہ کوئی دہراتا آیا ہے ۔ ہر دوسرے دن کوئی انتظار کرتا وجود ہمت ہار دیتا ہے تو ایسے ہی الفاظ دہرائے جاتے ہیں ، پھر بھی لوگ مر جاتے ہیں ۔” اسی نوع سے ملتا جلتا ایک اور اہم موضوع انسانی سمگلنگ ہے جو تیسری دنیا کے ممالک کا مشترکہ المیاتی سماجی ورثہ ہے اور جسے زویا نے اپنے خوبصورت افسانے “ آ پنک رومانس “میں مشاقی سے برتا ہے ۔ سبز باغ جیسے فرسودہ ہوتے محاوراتی انداز کی جگہ گلابی سپنوں کی اصطلاح بہت منصفانہ طریق سے برتی گئی ہے کیونکہ افسانے کے موضوع کے عین مطابق گلابی رنگ ذرا سا گہرا ہو کر خون سا سرخ ہوتا چلا جاتا ہے۔ سو جہاں ایک طرف جبر کے خلاف آواز اٹھانے والے گمشدہ ہو جاتے ہیں ، وہیں ایسے انسان بھی ملتے ہیں جو اپنے گلابی خوابوں کی تعبیر پانے کیلیے خود کو غلط ہاتھوں میں دے کر زندگی نہ صرف داؤ پر لگا دیتے ہیں بلکہ اکثر ہار بھی جاتے ہیں ۔ “ آ پنک رومانس ” میں ایسے ہی ایک دیہاتی نوجوان ریحان کی ناکام جدوجہد کی داستان بیان ہوئی ہے جو ایک موچی کا بیٹا ہونے کی قیمت ملک میں رہ کر چکانے پر راضی بھی نہیں اور اسی سماج میں رہتے ہوئے اس کے پاس اور کوئی چارہ بھی نہیں ۔سو مجبوراً وہ انسانی سمگلروں کے توسط سے سمندر پار قسمت آزمائی کا ارادہ کرتا ہے ۔ پھر جیسا کہ اکثر قسمت عجیب کھیل کھیل جاتی ہے ، یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے : “ ریحان جانتا تھا کہ اب وہ جو گلابی آسماں ڈھونڈنے نکلا ہے تو کئی سیاہ آسماں اسے عبور کرنے تھے ۔۔۔۔۔۔کون جانتا تھا وہ کس خواب میں مرا مگر۔۔۔۔” اس افسانے میں راست انداز واضح ہونے کے باوجود جابجا استعاراتی پیوندکاری نے پلاٹ پر ایک متنوع نمونہ کاری / mosaic pattern کا منظر اجاگر کیا ہے جو افسانے کے معیار کو رفعت عطا کرتا ہے۔ اسی طرح “ کہانی کے اس پار “ میں ایک حجام کے بیٹے کے ارمانوں اور خوابوں کو حقیقی زندگی کے مقتل میں ذبح ہوتے دکھایا گیا ہے۔معاشی زینے کی سیڑھیاں چڑھنا ایک استحصالی معاشرے میں کتنا مشکل کام ہے، اس کا بخوبی اندازہ ان دو افسانوں سے لگایا جا سکتا ہے ۔ بس واحد فرق یہ ہے کہ “ کہانی کے اس پار “ کے مرکزی کردار کو ریحان کے برعکس وطن کے اندر ہی گاؤں سے شہر کی طرف ہجرت کے بعد مایوسیوں کے سمندر میں ڈوبنا پڑتا ہے ۔
عورت کے نفسیاتی مسائل ،خاص طور پر جنھیں کسی حد تک اب بھی “ موضوعِ ممنوعہ/ Taboos”گردانا جاتا ہے، اس پر ایک خاتون افسانہ نگار کا قلم اٹھانا جہاں کچھ احباب کو قابلِ اعتراض و مذمت لگ سکتا ہے ، وہیں یہ ادب کے سنجیدہ قاری کیلئے خوشگوار حیرت کا سامان بہم کرتا ہے ۔ “ کھڑکی میں اگا وجود” عورت کی جنسی ناآسودگی اور گھریلو تشدد کے بد ذائقہ اجزا سے بنا معجون ہے جس میں ورائے متن بہت سوں کو کچھ گرد آلود سا آئینہ دکھائی نظر آنے کا خدشہ ہے۔ خودکلامی اور اپنے ماحول کو سراب کی عینک سے دیکھنے کے نامانوس آمیزے نے “ یہ تیغ اپنے لہو میں نیام ہوتی رہی “ کا عملی نظارہ کرادیا جس کیلیے مصنفہ بہت زیادہ داد کی مستحق ہے۔
زویا حسن کے افسانوی کرافٹ میں یہ طے کرنا محال ہے کہ واحد متکلم کی صورت ان کا کوئی کردار لفظوں سے گفتگو کرتا ہے یا الفاظ مصنفہ کے لاشعور میں پلٹ کر اس سے مخاطب ہوتے ہیں یا یہ الفاظ کی آپسی بات چیت ہے ۔ یہ معمہ نما صورتحال کم و بیش سبھی افسانوں میں کہیں جابجا اور کہیں صرف منتخب مقامات پر دکھائی دیتی ہے اور یہیں سے مصنفہ کی کامیابی کا سفر شروع ہوتا ہے کیونکہ ایسے “ دو چار سخت مقام” ہی قاری کی نگاہ و فکر کو اپنی جکڑ میں لیے رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔ بادی النّظر میں ایسے اقتباسات پر فلسفیانہ طرزِ تحریر کا گماں گزرتا ہے لیکن دراصل ایسا اندازِ بیان بین السّطور جہانِ معنی دریافت کرنے کے ساتھ کثیر الجہاتی تجزیے اور متن کشائی کے در کشادہ کرتا ہے ۔ ذرا اس مختصر اقتباس کا مطالعہ کیجیے اور پھر خود فیصلہ کیجیے کہ اس کی تاثیر محض مقامی ہے یا آفاقی :”وہ اس دیس کا باسی نہیں تھا اور تمھیں پتا ہے یہ سب سرپھرے اس دیس کے باسی نہیں ہوتے ۔” پھر اسی افسانے میں کچھ آگے چل کر صورتحال ملاحظہ کیجیے : “ یہ لوگ اس گیلی لکڑی کی طرح ہیں راہب جو سلگتی تو ہے ، جل نہیں سکتی ۔”
زویا کے افسانے میری رائے میں ایسے استعارات کی گنجلک میں الجھے ہیں جنھیں سلجھاتے سلجھاتے کبھی تو معانی کی سیدھی ڈور ہاتھ آجاتی ہے تو کبھی علامتی گرہوں میں قرات کی انگلیاں پھنس جاتی ہیں ۔ “ من کونج” میں منڈیروں اور کونجوں کے تذکرے سے کچھ ایسی ہی صورت پیدا کی گئی ہے لیکن افسانے کے اختتام پر منیر نیازی کا شعر سیدھی ڈور کی طرح اس کی پیچیدہ گرہیں کھول دیتا ہے:
واپس نہ جا وہاں کہ ترے شہر میں منیر
جو جس جگہ پہ تھا وہ وہاں پر نہیں رہا
یہ کہا جا سکتا ہے کہ زویا حسن کے کردار اور الفاظ بہت ہی منفرد طریقے سے یوں گتھم گتھا ہوتے ہیں کہ کئی مقامات پر پر گمان ہوتا ہے کہ افسانہ نگار نے گویا قاری کو آزادی دے رکھی ہے کہ چاہے تو کردار کو لفظ سمجھے اور چاہے تو لفظ کی تجسیمِ نو کرتے ہوئے اسے ہی کردار سمجھ لے۔یہی عنصر جدید فکشن نگاری کے خدوخال تشکیل دینے کا استحقاق رکھتا ہے۔لفظوں اور کرداروں کی اس دھینگا مشتی میں کبھی ناسٹلجیا امپائر کا کردار ادا کرتا ہے تو کبھی زمان و مکان کی گرفت سے آزادی کی سعیِ ناکام ایک عمل انگیز کے روپ میں سامنے آتی ہے۔ یوں زویا حسن کے افسانوں میں ڈرامائیت ایک انوکھے روپ میں کسی چور دروازے سے داخل بھی ہوتی ہے اور جانے کس وقت چپکے سے کسی اور درز سے نکل بھی جاتی ہے۔زمان و مکان کے گورکھ دھندے کا شاخسانہ مجھے” خدا کے نام بے نام خط” میں سب سے زیادہ متاثر کن لگا ۔ ناانصافی کے نظام کی سلاخوں سے بنائے گئی کال کوٹھری میں ٹھہرائے جانے والے مہمانوں کی نفسیات جیسے یہاں پیش کی گئی ہے ویسی دوستوفسکی کے شہکار ناول “ جرم و سزا / Crime and Punishment “ میں بھی نہیں ملتی کیونکہ دوستوفسکی کا زمانہ ، ماحول ، مرکزی کردار کی حیثیت اور سماجی جال کچھ اور نوعیت کے تھے ۔
زمانی گرفت سے آزادی کی آرزو کا تذکرہ میں گزشتہ سطور میں اشارتاً کر چکا ۔ اس کی صورت گری ایک اور کردار کی زبانی ملاحظہ کیجیے اور لطف کشید کیجیے : “ تم جان لو، ایک بات سمجھ لو کہ میں اس وقت سے پرے اور زمانے سے آگے تمھیں دیکھتا ہوں۔تمھاری عمر میرے لیے ایک رومانس ہے۔ تمھارے ہاتھوں اور چہروں کی لکیریں میرا صبر ہیں جو میں نے تمھیں پانے کیلیے کیا ہے۔ بس تم اپنے اور میرے بیچ کسی فاصلے کا ذکر مت کرنا۔” ایسے مکالمے روحانی / افلاطونی عشق کا مفہوم قاری کو سمجھاتے ہیں اور قاری بھی اپنی بصیرت و بصارت کو ملا کر ورائے وقت مناظر دیکھنے کی جستجو میں لگ جاتا ہے۔
آخر میں ایک مشاہدے کا ذکر ضروری ہے : کئی افسانوں میں لفظ “ بھیتر” برتا گیا ہے جبکہ اس کے اردو/ فارسی متبادل سے بخوبی کام چلایا جا سکتا تھا۔ گو کہیں بھی یہ لفظ نہ تو کھَلتا ہے اور نہ بوجھل فضا پیدا کرتا ہے کیونکہ کچھ اور ہندی الفاظ بھی بڑے سلیقے سے استعمال ہوئے ہیں جیسے چندر مُکھی کو تلمیحی انداز میں ایک افسانے میں بڑی نفاست سے مکالمے کا حصہ بنایا گیا ہے ۔ بس اس لفظ نے میرے لیے تجسس کا ایک دھندلا سا ماحول بنا دیا ہے اور کچھ بعید نہیں کہ یہ دھند چھٹنے پر مجھے تخلیقی ذہن کی نفسیات سمجھنے میں کچھ اور مدد مل جائے۔
احباب! بلاشبہ زویا حسن کا پہلا مجموعہ ہر معیاری لائبریری کی زینت بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے ۔زویا اور اکادمی بازیافت دونوں مبارک کے مستحق ہیں کہ ایک شاندار افسانوی مجموعے سے ہمارا تعارف کرایا گیا۔
زویا کے قلمی سفر کیلئے بہت دعائیں اور قوی توقعات ۔