MOJ E SUKHAN

یاد ہے وہ بھی اک زمانہ تھا

یاد ہے وہ بھی اک زمانہ تھا
آپ کا ہم سے دوستانہ تھا

ایک اپنا بھی آشیانہ تھا
شام لوٹ کے بھی انا تھا

بات ویسے تو کتنی سادہ تھی
پھر بھی لہجہ منافقانہ تھا

آپ بھی ہم سے پیار کرتے تھے
یا تخیل یہ شاعرانہ تھا——-

در حقیقت وہی حقیقت تھی
آپ سے ربط غائبانہ تھا

دل اسی سے لگا لیا شاہیں
اک تجاہل جو عارفانہ تھا

شاہین برلاس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم