MOJ E SUKHAN

اس اوج پر نہ اچھالو مجھے ہوا کر کے

اس اوج پر نہ اچھالو مجھے ہوا کر کے
کہ میں جہاں سے ہوں اترا خدا خدا کر کے

ازل سے مجھ سے ہے وابستہ خیر و شر کا نظام
نہ دیکھو مجھ کو مری ذات سے جدا کر کے

میں جانتا ہوں مقفل ہیں سارے دروازے
مجھے یہ ضد ہے کہ گزروں مگر صدا کر کے

میں اپنے دور کے اس کرب کا ہوں آئینہ
جو پیش رو ہوئے رخصت مجھے عطا کر کے

شکست ضبط پہ میں بھی بہت خجل ہوں مگر
کھلا ہے اس کا بھرم میرا سامنا کر کے

یہ فخر کم نہیں فارغ ہے دل غریب تو کیا
کہ آبرو تو نہیں کھوئی التجا کر کے

فارغ بخاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم