MOJ E SUKHAN

ترے جلووں کا وہ عالم نہیں ہے

غزل

ترے جلووں کا وہ عالم نہیں ہے
شعور دید ورنہ کم نہیں ہے

نظام زندگی ہے منتشر سا
مزاج یار تو برہم نہیں ہے

کبھی لذت کش راحت نہ ہوں گے
میسر جن کو تیرا غم نہیں ہے

دیا ہے غم زمانے بھر کا مجھ کو
عنایت یہ بھی تیری کم نہیں ہے

ہمیں امید ہو کیوں کر کرم کی
ستم بھی جب ترا پیہم نہیں ہے

نوازش ہو گئی جس پر جنوں کی
اسے دنیا میں کوئی غم نہیں ہے

میسر ہے تری آنکھوں کی مستی
مجھے سودائے جام جم نہیں ہے

سلیقہ ہو اگر جینے کا صابرؔ
حیات چند روزہ کم نہیں ہے

صابر ابوہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم