MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زباں نے جو بھی کہا عرض حال تھوڑی ہے

غزل

زباں نے جو بھی کہا عرض حال تھوڑی ہے
تمہارے بن ہمیں جینا محال تھوڑی ہے

جو اک جہاں کو تحیر میں مبتلا کر دے
تمہارے جھوٹ میں اتنا کمال تھوڑی ہے

نہ جانے کون سی سازش رچائے رہتے ہو
مرا عروج تمہارا زوال تھوڑی ہے

ترے سوال کے بدلے دیا جواب تجھے
مرے جواب میں کوئی سوال تھوڑی ہے

نہ کوئی دیکھ کے ٹھٹکے نہ انگلیاں کاٹے
ترے وجود میں ایسا جمال تھوڑی ہے

جو راہ عشق سے گزرے امر وہ کہلائے
تو کوئی ایک ہی زندہ مثال تھوڑی ہے

عجیب بات ہے ہر شعر تم پہ صادق ہے
وگرنہ دل میں تمہارا خیال تھوڑی ہے

ذکیہ غزل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم