MOJ E SUKHAN

تشنہ کاموں کو جام کا حق دو

تشنہ کاموں کو جام کا حق دو
میکدے میں قیام کا حق دو

زندگی کو قریب سے دیکھو
وحشتوں سے کلام کا حق دو

خود سے مل لوں، کہ جی بہل جائے
دوستو! ایک شام کا حق دو

مختصر زیست پر ،حساب و کتاب
مجھ کو عمرِ دوام کا حق دو

کس قدر دوڑ تا رہا ہوں میں
خواہشوں اب لگام کا حق دو

میں کہ جب آگیا ہوں دنیا میں
چار دن تو قیام کا حق دو

کاشف علی ہاشمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم