MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تاکید کرو زمزمہ سنجان چمن کو

غزل

تاکید کرو زمزمہ سنجان چمن کو
بے چین ہوں دل جن سے وہ نغمے نہ الاپو

اے اہل وطن! کھاؤ پیو شوق سے لیکن
کھیلو نہ کبھی سر سے کبھی منہ سے نہ بولو

ہر طائر پراں کے پر و بال کرو قینچ
ہر بندۂ آزاد کو شیشے میں اتارو

بن جائے روایت نہ کہیں حلقۂ زنجیر
ہر رفتہ کو موجود کی میزان پہ تولو

پرسان پریشانی انساں نہیں کوئی
قسمت کی گرہ ناخن تدبیر سے کھولو

کیوں صرف نظر کرتے ہو انجام سے اپنے
قدرت تو طرف دار کسی کی نہیں لوگو!

ہم تو ہیں فقط دل زدۂ ذوق تماشا
رم ہم سے عبث کرتے ہو اے زہرہ نگاہو!

ہم چشم سحر، دیدۂ شب، دست صبا ہیں
پردہ تو ہے نا محرموں سے لالہ عذارو!

وہ قوم کہ نام اس کا مسلمان ہے خالدؔ
کیا یاد ہے شرط انتم الاعلون کی اس کو؟

عبدالعزیز خالد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم