MOJ E SUKHAN

تیر ختم ہیں تو کیا ہاتھ میں کماں رکھنا

غزل

تیر ختم ہیں تو کیا ہاتھ میں کماں رکھنا
اس مہیب جنگل میں حوصلہ جواں رکھنا

کیا پتا ہوائیں کب مہربان ہو جائیں
پانیوں میں جب اترو ساتھ بادباں رکھنا

رنجشیں بھلا دینا فاصلے مٹا دینا
اک مہین سا پردہ پھر بھی درمیاں رکھنا

ہم بھی ہونٹ سی لیں گے جی سکے تو جی لیں گے
کیا کوئی ضروری ہے بولتی زباں رکھنا

یہ گھڑی تو آئی تھی یوں ہی سرگرانی تھی
اب فضول لگتا ہے کوئی سائباں رکھنا

لہر لہر بکھری ہے قہر قہر دریا میں
بے جواز لگتا ہے سعیٔ رائیگاں رکھنا

دوسروں کی ضد ہوں میں کتنا منفرد ہوں میں
یہ بھی کیا کہ سب جیسا سر پہ آسماں رکھنا

شفیق سلیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم