MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہمیں یہ شوق ہے دیکھیں ستم کی انتہا کیا ہے

غزل

انہیں یہ فکر ہے ہر دم نئی طرز جفا کیا ہے
ہمیں یہ شوق ہے دیکھیں ستم کی انتہا کیا ہے

گنہگاروں میں شامل ہیں گناہوں سے نہیں واقف
سزا کو جانتے ہیں ہم خدا جانے خطا کیا ہے

یہ رنگ بیکسی رنگ جنوں بن جائے گا غافل
سمجھ لے یاس و حرماں کے مرض کی انتہا کیا ہے

نیا بسمل ہوں میں واقف نہیں رسم شہادت سے
بتا دے تو ہی اے ظالم تڑپنے کی ادا کیا ہے

چمکتا ہے شہیدوں کا لہو پردے میں قدرت کے
شفق کا حسن کیا ہے شوخئ رنگ حنا کیا ہے

امیدیں مل گئیں مٹی میں دور ضبط آخر ہے
صدائے غیب بتلا دے ہمیں حکم خدا کیا ہے

چکبست برج نرائن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم