MOJ E SUKHAN

دل محبت سے بھر نہ جائے کہیں

غزل

دل محبت سے بھر نہ جائے کہیں
تو بھی یک دم مکر نہ جائے کہیں

تھام لیتی ہوں خود کو پل پل میں
دل یہ اشکوں سے بھر نہ جائے کہیں

میں زمانے سے تھک چکی یارو
اب یہ میری نظر نہ جائے کہیں

آنے والے خزاں کے موسم میں
ہار تنہا شجر نہ جائے کہیں

آنکھ پرنم ہے لب پہ خاموشی
موج دریا اتر نہ جائے کہیں

ان تغافل بھری اداؤں سے
میری ہستی بکھر نہ جائے کہیں

کوئی اس کو مری خبر دے دے
وقت جلدی گزر نہ جائے کہیں

عمود ابرار احمد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم