MOJ E SUKHAN

اگر عاشق کوئی پیدا نہ ہوتا

غزل

اگر عاشق کوئی پیدا نہ ہوتا
تو معشوقوں کا یہ چرچا نہ ہوتا

گریباں چاک کر روتے کہاں ہم
اگر یہ دامن صحرا نہ ہوتا

سدا رہتی توقع بلبلوں کو
اگر یہ غنچۂ گل وا نہ ہوتا

جدائی میں اگر آنکھیں نہ روتیں
تو ہرگز راز دل افشا نہ ہوتا

فغاںؔ کون اب خریدار سخن تھا
اگر یہ حضرت سوداؔ نہ ہوتا

اشرف علی فغاں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم