MOJ E SUKHAN

دل کے ہر پل رہے قریں کچھ لوگ

دل کے ہر پل رہے قریں کچھ لوگ
اس طرح کے بھی ہیں حسیں کچھ لوگ

عجز میں بھی کمال ہوتے ہیں
آسماں ہوکے بھی زمیں کچھ لوگ

ساری دنیا ہی چھان ماری ہے
با وفا ہیں کہیں کہیں کچھ لوگ

اپنے دل میں ہی ہم سدا رہ لیں
دل میں ان جیسے ہوں مکیں کچھ لوگ

منفی مثبت کا کھیل ہے دنیا
کیونکہ اچھے برے وہیں کچھ لوگ

جاں لٹاتے ہیں دوستوں پر کچھ
اور ہیں مارِ آستیں کچھ لوگ

تجھ میں امبر سے جا بسے کتنے
چاند تارے نہیں نہیں کچھ لوگ

عبدالمجید راجپوت امبر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم