MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

منزلیں دور ہیں اور آبلہ پائی اپنی

منزلیں دور ہیں اور آبلہ پائی اپنی
کیسے ممکن ہو ترے شہر رسائی اپنی

میں ترا نام قبیلے میں جو لیتا ہوں کبھی
ہر کوئی جھاڑنے لگتا ہے خدائی اپنی

ایک وہ تھا کہ وہ جرگے میں بھی خاموش نہ تھا
ایک ہم تھے کہ نہ دے پائے صفائی اپنی

اب تو یہ حق بھی نہیں ہے اسے چاہا جائے
اب تو یہ زیست بھی لگتی ہے پرائی اپنی

عشق کہتے ہیں جسے ہے در یزداں کا چراغ
اور اسی عشق میں دنیا ہے سمائی اپنی

مل گئی ہجر کی سوغات ہمیں بھی آخر
جانے اب کیسے کٹے گی مرے بھائی اپنی

یہ محبت ہے محبت ہے محبت جو ثمر
عمر بھر کی ہے یہی نیک کمائی اپنی

ثمر خانہ بدوش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم