MOJ E SUKHAN

دماغ عرش پہ ہے خود زمیں پہ چلتے ہیں

دماغ عرش پہ ہے خود زمیں پہ چلتے ہیں
سفر گمان کا ہے اور یقیں پہ چلتے ہیں

ہمارے قافلہ سالاروں کے ارادے کیا
چلے تو ہاں پہ ہیں لیکن نہیں پہ چلتے ہیں

نہ جانے کون سا نشہ ہے ان پہ چھایا ہوا
قدم کہیں پہ ہیں پڑتے کہیں پہ چلتے ہیں

بنا کے ان کو اگر چھوڑ دو تو گر جائیں
مکاں نئے کہ پرانے مکیں پہ چلتے ہیں

جہاں تمہارا ہے تم کو کسی کا ڈر کیا ہے
تمام تیر جہاں کے ہمیں پہ چلتے ہیں

بیکل اتساہی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم