MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تمہارے بعد جو بکھرے تو کو بہ کو ہوئے ہم

تمہارے بعد جو بکھرے تو کو بہ کو ہوئے ہم
پھر اس کے بعد کہیں اپنے روبرو ہوئے ہم

تمام عمر ہوا کی طرح گزاری ہے
اگر ہوئے بھی کہیں تو کبھو کبھو ہوئے ہم

یوں گرد راہ بنے عشق میں سمٹ نہ سکے
پھر آسمان ہوئے اور چار سو ہوئے ہم

رہی ہمیشہ دریدہ قبائے جسم تمام
کبھی نہ دست ہنر مند سے رفو ہوئے ہم

خود اپنے ہونے کا ہر اک نشاں مٹا ڈالا
شناسؔ پھر کہیں موضوع گفتگو ہوئے 

فہیم شناس کاظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم