MOJ E SUKHAN

 سخن کے ساز پہ جب بھی قلم نے رقص کیا

غزل

 سخن کے ساز پہ جب بھی قلم نے رقص کیا
غزل کی شکل میں اس وقت ہم نے رقص کیا

کسی کے ساتھ خوشی ہم کو جب نہ مل پائی
ہمارے دل کے دریچے میں غم نے رقص کیا

وہاں پہ صبح کو نکلا عذاب کا سورج
تمام شب جہاں اہل ستم نے رقص کیا

مسرتوں میں جہاں لوگ رب کو بھول گئے
اسی مقام پہ رنج و الم نے رقص کیا

وہ جس کے ظلم سے کل غمزدہ ہوئی تھی میں
وہ رو پڑا تو مری چشم نم نے رقص کیا

ہمارے ساتھ ہیں رنگینیاں زمانے کی
ہمارے دل میں سدا اس بھرم نے رقص کیا

عطائے رب سے منور جو مل گئ روٹی
خوشی کے ساتھ ہمارے شکم نے رقص کیا

منور جہاں زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم