MOJ E SUKHAN

سردی بھی ختم ہو گئی برسات بھی گئی

سردی بھی ختم ہو گئی برسات بھی گئی
اور اس کے ساتھ گرمئ جذبات بھی گئی

اس نے مری کتاب کا دیباچہ پڑھ لیا
اب تو کبھی کبھی کی ملاقات بھی گئی

میں آسماں پہ جا کے بھی تارے نہ لا سکا
تم بھی گئے اداس مری بات بھی گئی

ہم صوفیوں کا دونوں طرف سے زیاں ہوا
عرفان ذات بھی نہ ہوا رات بھی گئی

ملنے لگی ہے عام تو پینا بھی کم ہوا
قلت کے ختم ہوتے ہی بہتات بھی گئئ

شجاع خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم