MOJ E SUKHAN

اب رہا کیا ہے جو اب آئے ہیں آنے والے

اب رہا کیا ہے جو اب آئے ہیں آنے والے
جان پر کھیل چکے جان سے جانے والے

یہ نہ سمجھے تھے کہ یہ دن بھی ہیں آنے والے
انگلیاں ہم پہ اٹھائیں گے اٹھانے والے

کون سمجھائے نہ اٹھلا کے سر رہ چلیے
ہیں یہ انداز گنہ گار بنانے والے

پوچھنے تک کو نہ آیا کوئی اللہ اللہ
تھک گئے پاؤں کی زنجیر بجانے والے

کہیں رونا نہ پڑے تجھ کو زمانے کے ساتھ
ارے او وقت کی جھنکار پر گانے والے

آپ انداز نظر اپنا بدلتے ہی نہیں
اور برے بنتے ہیں بے چارے زمانے والے

پوچھتی ہے در و دیوار سے بیمار کی آنکھ
اب کہاں ہیں وہ مرے ناز اٹھانے والے

بخدا بھول گئے اپنی مصیبت بسملؔ
یاد جب آئے محمد کے گھرانے والے

بسمل عظیم آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم