MOJ E SUKHAN

عمر بھر خون سے لکھا ہے جس افسانے کو

غزل

عمر بھر خون سے لکھا ہے جس افسانے کو
کتنا کم رنگ ہے اس شوخ کے نذرانے کو

کھلتی رہتی ہیں ترے پیار کی کلیاں ہر سو
باغ نیلام نہ کر دیں مرے ویرانے کو

مے سے رغبت تو مجھے بھی ہے مگر بس اتنی
ناچتے دیکھ لیا دور سے پیمانے کو

اور مرتا کہیں جا کر ترے در سے لیکن
ہوش اتنا بھی کہاں تھا ترے دیوانے کو

کیا خبر تھی یہ ترا در یہ ترا کوچہ ہے
میں تو بس بیٹھ گیا تھا ذرا سستانے کو

شمع جلنے کی اجازت نہیں دیتی اخترؔ
شوق بجھنے نہیں دیتا مرے پروانے کو

سعید احمد اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم