MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دکھوں کے پھول تو ہیں زخم تو ہے داغ تو ہے

غزل

دکھوں کے پھول تو ہیں زخم تو ہے داغ تو ہے
ہرا بھرا مرے سینے میں کوئی باغ تو ہے

نہیں ہے وصل مگر خواب وصل بھی ہے بہت
ذرا سی دیر غم ہجر سے فراغ تو ہے

بہت اجاڑے سہی عمر کی سرائے مگر
شکستہ طاق میں اک یاد کا چراغ تو ہے

میں تشنگی کا گلا کیا کروں کہ صورت دل
لہو کی مے سے چھلکتا ہوا ایاغ تو ہے

تو کھو گیا ہے مرے شہر رفتگاں لیکن
یہ ایک درد کی خوشبو ترا سراغ تو ہے

سید فراست رضوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم