غم کی چھلنی سے گزاری تو سنبھالی نہ گئی
زندگی عیش پہ واری تو سنبھالی نہ گئی
پھول نے رنگ شگوفوں نے تبسم چھینا
تیری تصویر اتاری تو سنبھالی نہ گئی
جانے کس طور وہ کرتا ہے رعایا قابو
شاہ سے اپنی سواری تو سنبھالی نی گئی
اپنے مرکز سے جو سرکی تو سرکتی ہی گئی
زیست اک مرتبہ ہاری تو سنبھالی نہ گئی
توبہ توبہ یہ نمائش کا جنوں خوشبو میں
جب کھلی گل کی پٹاری تو سنبھالی نہ گئی
وارثوں نے ہی کیا جان اسے لاوارث
سر سے دستار اتاری تو سنبھالی نہ گئی
جان کاشمیری