MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

غموں کی تال پہ خوابوں کے دل تھرکتے رہے

غموں کی تال پہ خوابوں کے دل تھرکتے رہے
ہم اک خوشی کے لیے اپنے پیر پڑتے رہے

بچھا کے بسترِ امید ہم دریدہ بدن
خود اپنے آپ سے بے نام جنگ لڑتے رہے

پرو کے ضبط کے دھاگے میں سسکیاں آنسو
ہم اپنی بانہوں میں رنج و الم جکڑتے رہے

سجا کے سینے پہ ہم اعتبار کے تمغے
تمام عمر ہی قرطاس پر بھٹکتے رہے

اٹھا کے نقشِ قدم سے کسی کی خاکِ یقیں
خود اپنی لاش کے اطراف رقص کرتے رہے

مری تلاش میں سوچوں سے ہجرتیں کر کے
برہنہ جسم کئی شاعری میں ڈھلتے رہے

پھر اس کے بعد ہوا تار مخلصی کا بدن
پھر اس کے بعد مخالف ہوا کے چلتے رہے

ہر ایک شخص رہا اپنی زندگی میں مگن
ہمارے دل میں ہمارے ہی غم دھڑکتے رہے

بھرم نہ ٹوٹے کسی طور ہجر چوکھٹ کا
تمام رات فقط کروٹیں بدلتے رہے

سجا کے موجِ نسیمی سے دل کا میخانہ
تمام عمر فقط اپنی راہ تکتے رہے

نسیم شیخ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم