MOJ E SUKHAN

فتنہ اٹھا تو رزم گہہ خاک سے اٹھا

فتنہ اٹھا تو رزم گہہ خاک سے اٹھا
سورج کسی کے پیرہن چاک سے اٹھا

یہ دل اٹھا رہا ہے بڑے حوصلے کے ساتھ
وہ بار جو زمیں سے نہ افلاک سے اٹھا

سب معجزوں کے باب میں یہ معجزہ بھی ہو
جو لوگ مر گئے ہیں انہیں خاک سے اٹھا

سورج کی ضو چراغ شکستہ کی لو سے ہو
قلزم کی موج دیدۂ نمناک سے اٹھا

پوچھا جو اس نے عہد جراحت کا ماجرا
دریا لہو کا ہر رگ پوشاک سے اٹھا

عظیم حیدر سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم