MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بے نیازانہ ہر اک راہ سے گزرا بھی کرو

غزل

بے نیازانہ ہر اک راہ سے گزرا بھی کرو
شوق نظارہ جو ٹھہرائے تو ٹھہرا بھی کرو

اتنے شائستۂ آداب محبت نہ بنو
شکوہ آتا ہے اگر دل میں تو شکوہ بھی کرو

سینۂ عشق تمناؤں کا مدفن تو نہیں
شوق دیدار اگر ہے تقاضا بھی کرو

وہ نظر آج بھی کم معنی و بیگانہ نہیں
اس کو سمجھا بھی کرو اس پہ بھروسا بھی کرو

اطہر نفیس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم