MOJ E SUKHAN

فیض عہد جدید تنہائی

غزل

فیض عہد جدید تنہائی
سہہ رہا ہوں شدید تنہائی

بڑھتا جاتا ہے حلقۂ احباب
بڑھ رہی ہے مزید تنہائی

ہے جہاں تک بھی سوچ سناٹا
ہے جہاں تک بھی دید تنہائی

بیٹھ کر دوستوں کی محفل میں
کر رہا ہوں کشید تنہائی

پاس حبل الورید کے ہے خدا
زیر حبل الورید تنہائی

گھر سے گھبرا کے باہر آیا تھا
گھر سے باہر مزید تنہائی

ٹی وی موبائل ٹیب کمپیوٹر
دے کے پیسے خرید تنہائی

افتخار حیدر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم