MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کبھی جو معرکہ خوابوں سے رت جگوں کا ہوا

کبھی جو معرکہ خوابوں سے رت جگوں کا ہوا
عجیب سلسلہ آنکھوں سے آنسوؤں کا ہوا

جلا کے چھوڑ گیا تھا جو طاق دل میں کبھی
کسی نے پوچھا نہ کیا حال ان دیوں کا ہوا

لکھا گیا ہے مرا نام دشمنوں میں سدا
شمار جب بھی کبھی میرے دوستوں کا ہوا

مذاق اڑاتے تھے آندھی سے پہلے سب میرا
جو میرے گھر کا تھا پھر حال سب گھروں کا ہوا

بدل رہی ہیں مرے ہاتھ کی لکیریں پھر
کہا نہ اب کے بھی شاید نجومیوں کا ہوا

وفا شعار طبیعت کا یہ صلہ ہے نورؔ
مری حیات کا ہر لمحہ دوسروں کا ہوا

شہناز نور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم