MOJ E SUKHAN

لائی ہے کس مقام پہ یہ زندگی مجھے

لائی ہے کس مقام پہ یہ زندگی مجھے
محسوس ہو رہی ہے خود اپنی کمی مجھے

دیکھو تم آج مجھ کو بجھاتے تو ہو مگر
کل ڈھونڈھتی پھرے گی بہت روشنی مجھے

طے کر رہا ہوں میں بھی یہ راہیں صلیب کی
آواز اے حیات نہ دینا ابھی مجھے

سوکھے شجر کو پھینک دوں کیسے نکال کر
دیتا رہا ہے سایہ شجر جو کبھی مجھے

کیوں کر رہی ہے مجھ سے سوالات زندگی
کہہ دو جواب کی نہیں فرصت ابھی مجھے

کیا چاہتا تھا وقت پہ لکھنا نہ پوچھیے
حرمت قلم کی اپنی بچانی پڑی مجھے

دل داریاں بھی رہ گئیں پردے میں اے علیؔ
لہجہ بدل بدل کے صدا دی گئی مجھے

علی احمد جلیلی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم