MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مرے دل میں ہے کہ پوچھوں کبھی مرشد مغاں سے

غزل

مرے دل میں ہے کہ پوچھوں کبھی مرشد مغاں سے
کہ ملا جمال ساقی کو یہ طنطنہ کہاں سے

وہ یہ کہہ رہے ہیں ہم کو ترے حال کی خبر کیا
تو اٹھا سکا نگاہیں نہ بتا سکا زباں سے

جو انہیں وفا کی سوجھی تو نہ زیست نے وفا کی
ابھی آ کے وہ نہ بیٹھے کہ ہم اٹھ گئے جہاں سے

میں عدم کے لالہ زاروں میں نواگر ازل تھا
مجھے کھینچ لائی ظالم تری آرزو کہاں سے

مری سر نوشت میں تھا وہی داغ نامرادی
جو ملا مری جبیں کو ترے سنگ آستاں سے

بچے بجلیوں کی زد سے وہی طائران دانا
جو کڑک چمک سے پہلے نکل آئے آشیاں سے

یہ ہے ماجرائے وحشت کہ ملا سراغ محمل
نہ غبار کارواں سے نہ درائے کارواں سے

نہیں کچھ سمجھ میں آتا یہ عجیب ماجرا ہے
کہ زمیں کے رہنے والوں کو ہدایت آسماں سے

شب غم جو آئی سالکؔ مٹے باطنی اندھیرے
مرا دل ہوا منور تب و تاب جاوداں سے

عبدالمجید سالک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم