MOJ E SUKHAN

میں ترے ڈر سے رو نہیں سکتا

غزل

میں ترے ڈر سے رو نہیں سکتا
گرد غم دل سے دھو نہیں سکتا

اشک یوں تھم رہے ہیں مژگاں پر
کوئی موتی پرو نہیں سکتا

شب مرا شور گریہ سن کے کہا
میں تو اس غل میں سو نہیں سکتا

مصلحت ترک عشق ہے ناصح
لیک یہ ہم سے ہو نہیں سکتا

کچھ بیاںؔ تخم دوستی کے سوا
مزرع دل میں بو نہیں سکتا

بیاں احسن اللہ خاں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم