MOJ E SUKHAN

تشنہ لبوں کی نذر کو سوغات چاہئے

غزل

تشنہ لبوں کی نذر کو سوغات چاہئے
تیرے نثار تھوڑی سی برسات چاہئے

اتنا بھی میکدے پہ نہ پہرے بٹھائیے
کچھ تو خیال اہل خرابات چاہئے

آپس کی گفتگو میں بھی کٹنے لگی زباں
اب دوستوں سے ترک ملاقات چاہئے

مدت سے چشم و دل میں کوئی رابطہ نہیں
کیا اور تجھ کو گردش حالات چاہئے

کس کس خدا کے سامنے سجدہ نہیں کیا
کچھ شرم کچھ تو آبروئے ذات چاہئے

ذکر پری وشاں کے زمانے گزر گئے
اب تو غزل میں حمد‌ و مناجات چاہئے

انصاف کی یہ آنکھ یہ سورج کی روشنی
یا رب یہی ہے دن تو مجھے رات چاہئے

ہم چاہتے ہیں دہر میں جینے کا حق ملے
ان کو ثبوت فرخیٔ ذات چاہئے

کچھ بھی ہو مصلحت کا تقاضا مگر ندیم
جو دل میں ہو زباں پہ وہی بات چاہئے

اے زلف ناز کوئی ہوائے فسوں کا دام
اہل نظر کو سیر طلسمات چاہئے

تاب کمند کاکل خم دار ہوشیار
کھل کر نہ ہر کسی پہ عنایات چاہئے

طاہرؔ جزائے ہمت عالی ہے زلف یار
زلفوں سے کھیلنے کے لیے ہات چاہئے

جعفر طاہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم