MOJ E SUKHAN

وہ جو خوشبو لگا کے جاتی ہے

وہ جو خوشبو لگا کے جاتی ہے
پھر وہ ہی تو گلوں سے آتی ہے

زلف سے باندھتی ہے رستوں کو
بیڑیاں آنکھ سے بناتی ہے

ہجر میں کون یاد رکھتا ہے
دن ہے نکلا کہ رات جاتی ہے

زخم کتنے لگے ہیں سینے پر
مسئلہ یہ شماریاتی ہے

عکس بینائی چھین لے جس کا
وہ ہی صورت نظر کو بھاتی ہے

سید غضنفر علی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم