MOJ E SUKHAN

بیچ منجدھار دیا بڑھ کے سہارا کس نے

غزل

بیچ منجدھار دیا بڑھ کے سہارا کس نے
ہم تو تنہا تھے ہمیں پار اتارا کس نے

زندگی تجھ کو شب و روز کے دوزخ میں ترے
جس طرح ہم نے گزارا ہے گزارا کس نے

حال اب یہ کہ اندھیرا مرے خوں کا پیاسا
رکھ دیا ہے مری مٹھی میں ستارہ کس نے

سر بریدہ کوئی بچہ مرے اندر ہر روز
پوچھتا رہتا ہے مجھ سے مجھے مارا کس نے

پاؤں لگ جائیں تصور کو تو ہم چل نکلیں
ہم کو خوابوں کی گزر گہہ سے پکارا کس نے

عشق نقصان کا سودا تھا ظفرؔ میرے بعد
جانے برداشت کیا میرا خسارہ کس نے

ظفر گورکھ پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم