MOJ E SUKHAN

وہ نگاہوں کو جب بدلتے ہیں

غزل

وہ نگاہوں کو جب بدلتے ہیں
دل سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں

منزلیں دور ہیں کبھی نزدیک
ہر قدم فاصلے بدلتے ہیں

کون جانے کہ اک تبسم سے
کتنے مفہوم غم نکلتے ہیں

نہ گزر اتنی کج روی سے کہ لوگ
تیرے نقش قدم پہ چلتے ہیں

آگ بھی ان گھروں کو لگتی ہے
جن گھروں میں چراغ جلتے ہیں

جب بھی اٹھتی ہے وہ نظر اقبالؔ
شمع کی طرح دل پگھلتے ہیں

اقبال صفی پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم