MOJ E SUKHAN

چراغ ہائے تکلف بجھا دیے گئے ہیں

غزل

چراغ ہائے تکلف بجھا دیے گئے ہیں
اٹھاؤ جام کہ پردے اٹھا دیے گئے ہیں

اب اس کو دید کہیں یا اسے کہیں دیدار
ہمارے آگے سے جو ہم ہٹا دیے گئے ہیں

اب اس مقام پہ ہے یہ جنوں کہ ہوش نہیں
مٹا دیے گئے ہیں یا بنا دیے گئے ہیں

یہ راز مرنے سے پہلے تو کھل نہیں سکتا
سلا دیے گئے ہیں یا جگا دیے گئے ہیں

جو مل گئے تو تونگر نہ مل سکے تو گدا
ہم اپنی ذات کے اندر چھپا دیے گئے ہیں

چراغ بزم ہیں ہم راز دار صحبت بزم
بجھا دیے گئے ہیں یا جلا دیے گئے ہیں

میر احمد نوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم