MOJ E SUKHAN

بسمل کسی کو رکھنا رسم وفا نہیں ہے

غزل

بسمل کسی کو رکھنا رسم وفا نہیں ہے
اور منہ چھپا کے چلنا شرط وفا نہیں ہے

زلفوں کو شانہ کیجے یا بھوں بنا کے چلیے
گر پاس دل نہ رکھیے تو یہ ادا نہیں ہے

اک روز وہ ستم گر مجھ سے ہوا مخاطب
میں نے کہا کہ پیارے اب یہ روا نہیں ہے

مرتے ہیں ہم تڑپتے پھرتے ہو تم ہر اک جا
جانا کہ تم کو ہم سے کچھ مدعا نہیں ہے

تب سن کے شوخ دل کش جھنجھلا کے کہنے لاگا
کیا وضع میری آصفؔ تو جانتا نہیں ہے

آصف الدولہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم