MOJ E SUKHAN

چمن کو آگ لگانے کی بات کرتا ہوں

چمن کو آگ لگانے کی بات کرتا ہوں
سمجھ سکو تو ٹھکانے کی بات کرتا ہوں

شراب تلخ پلانے کی بات کرتا ہوں
خود آگہی کو جگانے کی بات کرتا ہوں

سخنوروں کو جلانے کی بات کرتا ہوں
کہ جاگتوں کو جگانے کی بات کرتا ہوں

اُٹھی ہوئی ہے جو رنگینیء تغزل پر
وہ ہر نقاب گرانے کی بات کرتا ہوں

اس انجمن سے اُٹھوں گا کھری کھری کہہ کر
پھر انجمن میں نہ آنے کی بات کرتا ہوں

یہاں چراغ تلے لوٹ ہے، اندھیرا ہے
کہاں چراغ جلانے کی بات کرتا ہوں

وہ باغباں! جو پھولوں سے بیر رکھتا ہے
یہ آپ ہی کے زمانے کی بات کرتا ہوں

روش روش پہ بچھا دو ببول کے کانٹے
چمن سے لطف اُٹھانے کی بات کرتا ہوں

وہاں شراب پلاتا ہوں اہلِ بینش کو
جہاں بھی خون بہانے کی بات کرتا ہوں

مزاجِ حسن کہیں بدمزا نہ ہوجائے
ادل بدل کے فسانے کی بات کرتا ہوں

مگر فریب دہی میں درکار ہے اچھوتا پن
ترے فریب میں آنے کی بات کرتا ہوں

وہیں سے شعر میں برجستگی نہیں رہتی
جہاں سے حال چھپانے کی بات کرتا ہوں

پلا رہا ہوں میں کانٹوں کو خونِ دل اے شاد
گلوں کے رنگ اُڑنے کی بات کرتا ہوں

شاد عارفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم