MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کاجل بھرا ہے نین میں اور منہ میں پان بھی

غزل

کاجل بھرا ہے نین میں اور منہ میں پان بھی
ملتا نہیں ہے روپ کا لیکن نشان بھی

اب کیا کہیں وہ جھانکنے والے نہیں رہے
نٹکھٹ گلی وہی ہے اور بانکا مکان بھی

دل کی پرانی بانسری لے کر کہیں چلیں
ترکش کے ساتھ توڑ دیں تیر و کمان بھی

اس تنگ دل سے شہر میں کیا سوچ کے بسے
آنگن گیا تھا ساتھ میں کھویا ہے لان بھی

جنگل کے باسیوں کے سبھی جال کاٹ دیں
پھینکے اڑا کے آندھیاں اونچے مچان بھی

چھوٹے سے دل کا اور تھا اک پاؤں تیسرا
دینے کو دے دئے تھے اسے دو جہان بھی

ان کی غزل کا کیا کہیں جادو چراغ ہے
رہنے کو یہ مکان ہے گھر کی دکان بھی

دیپک قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم