MOJ E SUKHAN

چپ ہوں سب جانتا مگر ہوں میں

غزل

چپ ہوں سب جانتا مگر ہوں میں
یہ نہ سمجھو کہ بے خبر ہوں میں

یوں تو کہنے کو اک شجر ہوں میں
لیکن افسوس بے ثمر ہوں میں

کوئی اپنا ہے میری کمزوری
ورنہ سچی بڑا نڈر ہوں میں

آج بے فکر ہو کے سو جاؤ
میرے گھر والو آج گھر ہوں میں

ذہن میں لائنیں ہیں سڑکیں ہیں
اب تو لگتا ہے خود سفر ہوں میں

ہر طرف خوشبوؤں سے بھر دوں گا
موسم گل کا منتظر ہوں میں

مجھ پہ چل کر تو دیکھیے الفتؔ
مخملی گھاس کی ڈگر ہوں میں

راکیش الفت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم