MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زمیں پہ انساں خدا بنا تھا وبا سے پہلے

زمیں پہ انساں خدا بنا تھا وبا سے پہلے

وہ خود کو سب کچھ سمجھ رہا تھا وبا سے پہلے

۔

پلک جھپکتے ہی سارا منظر بدل گیا ہے

یہاں تو میلہ لگا ہوا تھا وبا سے پہلے

۔

تم آج ہاتھوں سے دوریاں ناپتے ہو سوچو

دلوں میں کس درجہ فاصلہ تھا وبا سے پہلے

۔

عجیب سی دوڑ میں سب ایسے لگے ہوئے تھے

مکاں مکینوں کو ڈھونڈھتا تھا وبا سے پہلے

۔

ہم آج خلوت میں اس زمانے کو رو رہے ہیں

وہ جس سے سب کو بہت گلہ تھا وبا سے پہلے

۔

نہ جانے کیوں آ گیا دعا میں مری وہ بچہ

سڑک پہ جو پھول بیچتا تھا وبا سے پہلے

۔

دعا کو اٹھے ہیں ہاتھ عنبرؔ تو دھیان آیا

یہ آسماں سرخ ہو چکا تھا وبا سے پہلے

عنبرین حسیب عنبر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم