MOJ E SUKHAN

کون ہے نیک کون بد ہے یہاں

کون ہے نیک کون بد ہے یہاں
کس کے ہاتھوں میں یہ سند ہے یہاں

کھلتے جاتے ہیں کائنات کے بھید
جو ازل ہے وہی ابد ہے یہاں

جو نظر آئے وہ حقیقت ہے
جو کہا جائے مستند ہے یہاں

کتنی مدت سے دیکھتا ہوں میں
اک تماشائے خال و خد ہے یہاں

جو کسی طور جل نہیں پائے
ان چراغوں کی کوئی حد ہے یہاں

اپنی پہچان کے لیے زلفیؔ
کیا شمار اور کیا عدد ہے یہاں

تسلیم الٰہی زلفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم