MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جس کی خاطر گئی وہ تھا ہی نہیں

غزل

جس کی خاطر گئی وہ تھا ہی نہیں
پھر مرا دل وہاں لگا ہی نہیں

خود کو میں نے کبھی نہیں دیکھا
میرے کمرے میں آئنہ ہی نہیں

کیوں میں تعبیر ڈھونڈھتی پھرتی
خواب آنکھوں میں کوئی تھا ہی نہیں

اب ہواؤں کو تیز چلنے دو
اب مرے ہاتھ میں دیا ہی نہیں

وہ کہیں ہے بھی یا نہیں موجود
راز یہ آج تک کھلا ہی نہیں

سیما غزل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم