MOJ E SUKHAN

کہاں سے مفہوم شعر آئے نیا نیا سا

غزل

کہاں سے مفہوم شعر آئے نیا نیا سا
چراغ فکر و خیال ہو جب بجھا بجھا سا

غبار نفرت نہ گرد کینہ نہ داغ رنجش
چلے بھی آؤ کہ میرا دل ہے دھلا دھلا سا

خدایا سب کی نگاہیں اس پر ہی پڑ رہی ہیں
ہے گلستاں میں جو اک شگوفہ کھلا کھلا سا

یہ اس کے حسن و جمال کی طرفگی ہے شاید
وہ بھیڑ میں ہے مگر ہے سب سے جدا جدا سا

ہیں میری نظریں بھی آج کچھ کچھ جھکی جھکی سی
تمہارا بھی رنگ رخ ہے کچھ کچھ اڑا اڑا سا

سخن کے سیلاب کا یہ منظر عجیب سا ہے
رواں رواں سا ہے گاہے گاہے رکا رکا سا

اگرچہ فکر و نظر میں گوہرؔ کے ہے بلندی
مگر وہ رکھتا ہے سر ہمیشہ جھکا جھکا سا

کلدیپ گوہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم