MOJ E SUKHAN

رکھتا نہیں ہوں ساتھ میں اپنے خراب دوست

رکھتا نہیں ہوں ساتھ میں اپنے خراب دوست
سب کو وگرنہ چاہیئے مجرا شباب دوست

اک وقت تھا کہ میرے تعاقب میں چل دیئے
مستی بھری حسین کہانی شراب دوست

سب پوچھتے رہے کہ ترا کون ہے یہاں
میں نے کہا کہ کوئی نہیں بس جواب دوست

آتے نہیں کام ۔ مصیبت میں بھی کبھی
کس کام کے بھلا ہیں وہ صحرا سراب دوست

میں نے کمایا کچھ نہیں بس ایک کے سوا
میں نے بنایا رات کو بس ماہتاب دوست

ماہتاب دستی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم